Navigation
Recent Events
Recent Blog Posts
News
  • Chinese Ambassador calls on the President read more
  • President's addresses concluding session of National Seerat-un-Nabi read more
  • Air Chief calls on the President read more
Subscription
Email

مضامین

بلاول بھٹو زرداری - شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت کے امین

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق کلوٹا

 

پاکستان‘ جمہوریت اور عوام الناس کے لیے یہ بات بہت ہی خو ش آئند اور لائق تحسین ہے کہ بانی پیپلز پارٹی قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کے مطابق پاکستانی عوام کی قیادت ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہو‘ جو پاکستان کی تقدیر کو بدلنے کا عزم رکھتے ہوں اور مستقبل کے تمام چیلنجوں سے نپٹ کر پاکستان کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کریں اور عوام خوش حال ہو اور حقیقی معنوں میں ان کی رہنمائی ہو۔ ایک طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد 27 دسمبر 2012 سے نہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی اور بلکہ پاکستانی سیاست اور قیادت سنبھالنے کے لیے نوجوان لیکن انتہائی دانشمندباصلاحیت اور زیرک ‘ قائد عوام اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی امانتوں کے وارث ” بلاول بھٹو زرداری “ عملی طور پر میدان سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں جو یقینا اس تبدیلی کا نقطہ آغاز ہے جو قائد عوام اورشہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی اور پاکستان کا مستقبل اور پاکستان کا مقدر ہے ۔

 

آج پاکستان کے 18 کروڑ عوام کی نظریں بلاول بھٹو زرداری پر مرکوز ہیں اور یقینا ہم سب نے ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کیونکہ ان کی قابلیت اور لیاقت کے ساتھ ان کا عظیم سیاسی و جمہوری پس منظر ہے بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ پاکستانی سیاست ‘ پاکستانی قیادت اور جمہوریت اور قربانیاں ان کے خون میں شامل ہیں تو یہ بے جا نہ ہوگا اور ترقی کے منازل وہی طے کرتا ہے اور قوم کو ترقی کی راہ پر وہی گامزن کرتا ہے جس کے اندر یہ قائدانہ خوبیاں ہوں یہی وجہ ہے کہ عوام نے پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کی قیادت سنبھالنے پر خوشی کا اظہار کیا اور بلاول بھٹو زرداری کے لیے نہ صرف نیک خواہشات کا اظہار کیا بلکہ ان سے بہت سی امیدیںوابستہ کی ہیں۔ امید ہے کہ یہ نوجوان لیڈر قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اپنی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو درپیش مسائل اور چینلجز سے لائق فائق سیاسی رہنما کی طرح نبرد آزما ہوں گے ۔

             

نظام قدرت تبدیلی اور تسلسل کے منطقی نظام کے مطابق چلتی ہے ۔ چمن میں خزاں بہار سے ہمکنار ہوتی ہے اور اس گردش کے تحت خزاں بہار سے دوبارہ ہمکنار ہوکر اپنی گردش کے عمل کو مکمل کرتی ہے جس کے تحت جس طرح چمن کا نظام تسلسل میں رہتا ہے اسی طرح کائناتی نظام تغیر اور تبدیلی کے تحت اپنے تسلسل کو برقرار رکھتا ہے ۔ آج پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری عملی طور پر سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں ۔ ان کی ولادت 21 ستمبر 1988کو شہر کراچی میں ہوئی تھی وہ زیر تعلیم تھے کہ اچانک 27دسمبر 2007میں ان کی والدہ کی شہادت کے بعدانہیں پاکستان پیپلزپارٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعدملک انتہائی سنگین قومی بحران سے دوچار تھا ‘ لیکن چونکہ اس وقت وہ زیر تعلیم تھے چنانچہ اس وقفے کو پورا کرنے کے لیے عارضی طور پر جناب آصف علی زرداری کو شریک چیئرمین بناکر خلاکو پُر کرنے کے لیے آگے بڑھا یا گیا۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی تربیت شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو اور اپنے نانا قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت ‘ جمہوری سوچ‘ عوامی فلا ح و ترقی کے نظریئے سے پائی ۔ ان کی والدہ اورنانا قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو ملک میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں رہیں ۔ وہ ہمیشہ جمہوریت کی بقا اور آمریت کے خاتمے کے لیے صف آرا ءرہے ۔ بلاول بھٹو زرداری بھی اسی سیاسی فلسفے کے علمبردار اور جمہوری روایت ‘ اور جمہوری افکار کے علمبردار ہیں ۔ انہوں نے اپنی تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد باقاعدہ اپنے سیاسی سفر اور کیریئرکا آغاز بحیثیت چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کررہے ہیں۔وہ نہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھال رہے ہیں بلکہ ملک و قوم اور عوام کو اپنے ساتھ نئے انقلابی اور ترقی کے سفر گامزن کررہے ہیں ۔ایک ایسے وقت جب کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی مفاہمت پر مبنی سیاسی حکمرانی کے پانچ سال مکمل کررہی ہے اور آئندہ انتخابی سیاست کاآغاز ہونے والا ‘ بلاول بھٹو زرداری سے پاکستان پیپلزپارٹی کے عام کارکن سے ذمہ داروں تک تمام یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اس جمہوری اور سیاسی سفر کے تسلسل کے لیے اہم کردار ادا کریں گے ۔

               

جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے کہ وہ 21ستمبر 1988میں کراچی میں پیدا ہوئے اور ابتدئی طور پر وہ گرامر اسکول میں زیر تعلیم رہے اس وقت ان کی والد ہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا وزارت عظمیٰ کا دوسرا دور تھا ۔ اور انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کی والدہ عالم اسلام کی پہلی خاتون تھیں جو مملکت پاکستان کی دو بار منتخب وزیر اعظم ہوئیں ۔ جب ان کی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ دوسری بار وزیر اعظم تھیں تو اس دوران فروبلز انٹرنیشنل اسکول میں وہ زیر تعلیم تھے ۔وہ راشد بوائز اسکول دبئی میں زیر تعلیم رہے جہاں وہ اسٹوڈنٹ کونسل کے وائس صدربھی رہے انہوں نے بلیک بیلٹ بھی حاصل کی اور تعلیم کے علاوہ کھیلوں میں بھی حصہ لیتے تھے ۔وہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں ۔ کرائسٹ چرچ کالج جہاں سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے گریجویشن کیا تھا اسی کالج میں وہ زیر تعلیم بھی رہے ہیں۔

               

یہاں یہ ضروری ہے کہ جب وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 30دسمبر 2007کو پاکستان پیپلزپارٹی کے اتفاق رائے سے چیئرمین نامز د ہوئے تو انہوں نے اپنی پہلی تاریخی کانفرنس میں یہ کہہ کر سیاسی دنیا میں ہلچل مچادی کہ ” جمہوریت سیاست میں سب سے بڑا انتقام ہے ۔“ اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ متحرک طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ میں اس بات کا بھی تذکرہ کرنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بین الاقوامی سطح کے کہنہ مشق اور زیرک صحافیوں کو اپنی کارکردگی سے حیرت میںڈال دیا۔ اپنے کم عمری کے باوجود قومی اور بین الاقوامی سیاست پر جس طرح سے انٹرنیشنل پریس کے صحافیوں کو جوابات دیئے اس میں ان کے مستقبل کا عندیہ ملتا ہے ۔

               

بلاول بھٹو زرداری پاکستان کی واحد وفاقی ‘ جمہوری ‘ جماعت کے سربراہ ہیں جو وفاقی سیاست پر یقین رکھتی ہے جو وفاق کی سلامتی اور اس کی خوشحالی کی امانت ہے ۔ جناب بلاول بھٹو زرداری کی تربیت ایک ایسی ماں کی آغوش میں ہوئی ہے کہ جنہوں نے اپنے شہید والد جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی اثاث کو اپنے عمل اور جدوجہد کے ذریعے سے زندہ و تابندہ رکھا ۔ جنہوں نے جمہوریت کی قیام کے لیے بدترین آمریتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شجرہ جمہوریت کی نشوونما کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا ۔ بلاول بھٹو زرداری اسی وراثت کے قائد ہیں جو آئندہ مستقبل میں شہید ذوالفقار علی بھٹو‘ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی اثاث کو ارتقاءکے عمل سے ہمکنار کریں گے ۔

               

برصغیر کے سیاسی کلچر کا اگر ایک مختصر سا دیانتدارنہ سا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بہ آسانی سمجھ میں آئے گی کہ قربانی دینے والے سیاسی قائدین کی سیاسی اثاث کے ارتقاءمیں ان کی نسلوں کو بڑا دخل ہے ۔ چاہے بھارت کے گاندھی خاندان ہوں یا سری لنکا کی قیادت میں بندرا نائیکے خاندان ہو‘ یا بنگلادیش کی سیاست میں ان کی قیادت کے فروغ میں شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاءہوں نہ صرف یہ بلکہ مغرب کی دنیا میں بھی ہمیں سیاسی تسلسل میں کینڈی خاندان کا کردار نظر آتا ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی ایک جدوجہد کی جماعت ہے جس کی بنیادیں اس کے سیاسی فلسفے پر مشتمل ہے تاریخ میں وہ قربانیاں نادر ہیں جو بھٹو خاندان کا اثاثہ ہیں ۔

               

پاکستان کی تاریخ میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ‘ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو ‘ قائد جمہوریت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اسی تاریخ کا وہ تسلسل اور اثاثہ ہیں جنہوں نے تاریخ کو نئے تعینات اور رخ فراہم کیے ہیں ۔ چنانچہ پاکستان کے عوام کی یہ خواہشات عین واجبی ہے کہ کل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وہ تاریخی کردار انجام دیں جو ان کے سیاسی وراثت کا اثاث ہے ۔

               

راقم الحرو ف نے شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو اور ہمارے موجودہ قائد بلاول بھٹو زرداری کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور میں پورے یقین اور وثوق سے کہتا ہوں کہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے مستقبل جو خواب دیکھا ہے وہ احمد ندیم قاسمی کے الفاظ میں یہ ہے 

 

خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے

وہ فضل گل جسے اندیشہِ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے

اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں

کہ پتھروں سے بھی روئدگی محال نہ ہو

خدا کرے کہ وقار اس کا غیر فانی ہو

اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و وصال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال

کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے

وہ فضل گل جسے اندیشہِ زوال نہ ہو

               

پاکستان کے نوجوانوں کو ان کا یہ پیغام ہے کہ وہ مذہب کے غلط طور پر بنائے گئے انتہا پسند تصور سے جتنا دو ر جاسکتے ہیں جائیں اور اس کے بجائے اسلام کے اصل اور رواداری، عفو و درگزر اور صبر و تحمل والے تصور کو اپنائیں۔  بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلزپارٹی کا سرمایہ اور اثاثہ ہے ۔پاکستان پیپلزپارٹی کو بجا طور پر ان پر فخر ہے ۔ سیاسی حلقے یہ تجزیہ کرتے نظر آرہے ہیں کہ آئندہ انتخابی تحریک اور انتخابی عمل میں بلاول بھٹو زرداری اہم کردار ادا کریں گے۔


تاریخ پوسٹ: Thu, 27 Dec 2012

مزید مضامین

Random Video
Polls
surveys & polls