Navigation
Recent Events
Recent Blog Posts
News
  • Chinese Ambassador calls on the President read more
  • President's addresses concluding session of National Seerat-un-Nabi read more
  • Air Chief calls on the President read more
Subscription
Email

Blog

Zinda hai Bhutto... Zinda hai - by Yar Yyal

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاكستان پیپلز پارٹی کى تخلیق جمہوری نظریے...اسٹیٹسکو کے خاتمے اور نظام کی تبدیلی کیلیے عمل میں لائی... شہید ذوالفقار علیبھٹو اس نظام حکومت کا حصہ تھے جو اس وقت ملک میں رائج تھا...جس کے تحت پاکستان کےعوام اپنی زندگیاں گزار رہے تھے... اور وە نظام تھا... فرد واحد کی حکمرانی کا...
جو اپنے چند سو مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکہنے والے نمائندوں کے ذریعے کڑوڑوںعوام پر مطلق العنان حکمرانی کر رہا تھا...
شہید ذوالفقار علی بھٹو جن کا تعلق خود ایک وڈیرە، زمیندار اور مراعات یافتہ طبقےسے تھا جن کیلیے ایسا نظام بہت سازگار ہوتا ہے...
جس نظام میں عوام کے حقوق کی بات کرنا نظام سے بغاوت کے مترادف تھا... دولت،اختیارات اور ترقی کے مواقع صرف مراعات طبقے میں بانٹی جاتی تھیں... حکمرانی اورطاقت صرف مراعات یافتہ اور ایلیٹ لوگوں کے نصیب میں تھی... تعلیم ترقی اور بہترمستقبل غریب عوام کیلیے صرف ایک خواب ہی ہوسکتا تھا...
عوام کے حقوق کی آواز اٹھانا گناە سمجھا جاتا تھا...
اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلام نام کی کوئی پہچان نہیں تھی... 
جہاں استحصالی قوتوں نے عوام کی امنگوں اور خواہشات کا گلہ گھونٹ دیا تھا... 
پھر جیسے خداوند کریم کو اپنی مظلوم پسی ہوی مخلوق کی حالت زار پر رحم آگیا... 
بےیقینی سے دوچار اور مستقبل سے خائف جمہور کو جیسے مسیحا مل گیا... جیسے فرعون کےدربار میں سجنے والے موسی نے نظام کی محفلیں اجاڑ دیں... جیسے حکمرانی کرنے والےبدھا نے نظام سے بغاوت کر دی...
اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو نے ذاتی لالچ اور اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اس اسٹیٹسکواور استحصالي نظام سے بغاوت کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا عزم کرلیا... جس میںمزدور، کسان، محنت کش اور غریب عوام کی نمائندگی نہیں تھی... نہ ووٹ دینے کا حق تھانہ سياسي حق اور ناہی کوئی ايسا آئین جو ان کے حقوق کا تحفظ کر سکے... قائد عوامنے ان کے درد کو اپنا درد سمجہا... انکے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا پختہ ارادە کرلیا... عوام کے حقوق کے تحفظ اور اسلامی پہچان کیلیے آئین اور نظام تخلیق کرنے کاپختہ عزم کر لیا... عوام کی زندگی سے تاریکی کو ختم کر کے صبح نو کا پیغام دیا...اور عوام کی خدمت میں جان کی بازی تک لگانے کا عہد کر لیا... 
یہی قائد کا نظریہ تھا ... یہی تبدیلی تھی اسی کی تکمیل کیلے قائد نے سر دھڑ کیبازی لگانے کی قسم کھائی تھی ... یہی ہے پاکستان پیپلز پارٹی كے نظریے جس كي بنیادپر استحصالی قوتوں کو شکست دے کر عوام کل بول بالا کیا اور عوام طاقت کا سرچشمہ بنگئے... 
پھر دور شروع ہوا جمہور کا...
آئین اور حقوق کا...
محنت کش مزدور اور کسان کا...
تعلیم اور ترقی کا ...
مساوات اور عدل کا...
ثقافت اور تخلیق کا...
جمہوریت اور پارلیمنٹ کا...
اور عوام کی آزادانہ رائے دہی کا... 
تب قائد نے قوم کو دنیا کی عظیم قوم بنانے کا عہد کرلیا... اور عوام نے ساتھ دینےکا وعدہ کرلیا... 
ليكن!
ابھی سارے خواب پورے نہ ہوپائے تھے... ابھی ترقی کا سفر جاری تھا... ابھی غریبعوام کو اپنی طاقت کا احساس ہو رہا تھا...
ابھی صبح نو کے سورج کی کرنیں پھوٹ رہیں تھیں...
ابھی محنت کش کی محنت کا پھل پکنے والا تھا...
مختصر چار سالوں میں بہت کچھ ہوا ...اور بہت کچھ کرنے والا تھا...
اور اس منزل تک پہنچنے کیلیے مزید قدم اٹھانے کی بہت ضرورت تھی...
وه منزل ... جس کے حصول کیلیے قائد عوام نے جان کی بازی تک لگا دینے کا عہد کیا تھا...ابھی دور تھی...
ليكن... تاک میں بیٹھے فرسودہ نظام کے بھیڑیوں نے پانچ جولائی کو نو ستاروں کیتاریکی میں عوام کی حکمرانی پر شب خون مارا...
جس روشنی نے جبینوں کو روشن کیا تھا اسے ظلمت کے ضیا نے نگل لیا...
اور يوں قائد عوام کے وجود سے خوف زدە... اندھیروں کے سوداگروں نے پھر اپنا بازارگرم کرليا...
وە جانتے تھے کہ عوام کا قائد انہیں پہلے بہی شکست دے چکا ہے...
اب کے بھی عوام نے حق کی آواز بلند کی تو اقتدار پھر عوام کا ہو گا... اور ووٹبھٹو کا ہوگا...
اسلیے اس نظام نے ضمیرفروش سازشى عدلیہ کو ساتھ ملا کر
عوام كى آواز كا
عوام كي امنگوں کا ...
امیدوں اور مستقبل کا ...
حق اور سچائی کا گلا گھونٹ دیا... 
اک طویل کربناک اندھیری رات کا آغاز ہوگیا 
زبانیں کھینچ لی گئیں... 
قلم توڑ دیے گئے...
ہاتھ کاٹ دیے گئے... 
کوڑے برساے گئے... 
سینے گولیوں سے چھلنی کردیے گئے...
جیالوں کو آگ اور خون میں نہلا دیا گیا...
اور سوچ پر پہرے لگا دیے گئے... 
لیکن قائد کی سوچ کو وہ نہ جکڑ سکے اور نہ قتل کر سکے... 
قائد کو نہ جھکا سکے... نہ توڑ سکے... 
عوام کی خاطر قائد نے ہر سازش... ہر ظلم... ہر جبر برداشت کیا...
معافی...
لالچ...
اور جلاوطنی کو ٹھکرا کر اصولوں کی سیڑھی چڑھتا ہوا تختہ دار سے امر ہوگیا... 
عوام کے حق پرڈاکہ مارنے والوں نے پھندے سے مسیحا کے جھولتے ہوئے جسم کو دیکھ کراپنی محفلیں سجالیں... ان كو یوں لگا کہ اب ان کو اجاڑنے والا پیدا نہ ہوگا... 
لیکن وہ یہ نہ جان سکے کہ چار اپریل کو ایک ایسا بھٹو پیدا ہوا جیسے کوئی ختم نہیںکرسکتا... جو ہمیشہ عوام کے ساتھ رہے گا... جسے قدرت نے شہیدوں، صدیقون اورپیغمبروں میں مقام عطا فرمادیا...، اور جسے تاریخ نے ہمیشہ کیلیے زندہ کردیا... 
انہیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ جس بھٹو كو وه اقتدار کے ایوانوں سے بہت دور گڑھیخدا بخش میں اس خوف سے دفن کر آئے تھے کہ دوبارہ عوام کو اقتدار نہ مل پائے... 
وہی مزار...
وہی قبر... 
وہی قربانى...
عوام کی حکمرانی کا دھڑکتا دل بن چکا ہے... 
اور اسی دل سے اٹھتی ہے ہمیشہ یہ صدا...
زندہ ہے بھٹو... زندہ ہے 
زندہ ہے بھٹو... زندہ ہے 
زندہ ہے بھٹو... زندہ ہے 
زندہ ہے بھٹو... زندہ ہے


Posted Date: Thu, 04 Apr 2013


Comments (0)

Post a Comment

Your Name
Your Email
Your Comment


More Blogs

Zinda Hai Bhutto Zinda Hai.... - By Yar Yyal
<p class="MsoNormal" dir="RTL" style="margin-bottom: 3.75pt; text-align: justify; background-color: white; direction: rt...
Posted Date: Thu, 01 Nov 2012
Read More
Ulti Khopri Walay Siyasi Adakar... - By Yar Yyal
<p class="MsoNoSpacing" dir="RTL" style="text-align:right;direction:rtl;unicode-bidi:embed"><span lang="...
Posted Date: Mon, 22 Oct 2012
Read More
Pakistan Peoples Party: An ideology that has come to EXIST forever - by Maleeha Manzoor
<p style="color: rgb(102, 102, 102); font-family: Palatino, Georgia, Baskerville, serif; font-size: 14px; line-height: 18.200000762939453px;...
Posted Date: Sat, 01 Dec 2012
Read More
April 4: Mourning the murder of justice - by Maleeha Manzoor
<p style="color: rgb(102, 102, 102); font-family: Palatino, Georgia, Baskerville, serif; font-size: 14px; line-height: 18.1875px; background-c...
Posted Date: Thu, 04 Apr 2013
Read More
The Gallant Son of My Benazir... - By Maleeha Manzoor
<p style="color: rgb(102, 102, 102); font-family: Palatino, Georgia, Baskerville, serif; font-size: 14px; line-height: 18.200000762939453px;...
Posted Date: Sun, 14 Oct 2012
Read More
Random Video
Polls
surveys & polls